زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰۱۰ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء

جامعہ کی تاسیس کے بعد محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ الله تدریس کے ساتھ ساتھ خود فتاوی بھی تحریر فرماتے تھے ، بعد میں انہوں نے ۱۳۸۱ھ مطابق ۱۹۶۱ء میں ”دارالافتاء “ کا شعبہ مستقل کردیا اور حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ الله (سابق مفتی اعظم پاکستان)کو اس کا رئیس بنایا ۔
یہ جامعہ کا وہ شعبہ ہے جس پر مسلمانوں کو اپنے شرعی مسائل کے حل کے لیے مکمل اطمینان واعتماد ہے ،مفتیان کرام شرعی فتاوی صادر فرماکران کے انفرادی اور اجتماعی مسائل کاجواب تحریری صورت میں دیتے ہیں ،اسی طرح یومیہ کثیر تعداد میں لوگ خود حاضر ہوکر زبانی مسائل بھی پوچھتے ہیں، اس کے علاوہ ملک وبیرون ملک سے ڈاک کے ذریعہ آنے والے سوالات کے جوابات بھی ارسال کیے جاتے ہیں،نیز مسلمان ذاتی ، خانگی اور اجتماعی معاملات میں بذریعہ فون بھی مسائل دریافت کرتے ہیں ۔
دار الافتاء سے سالانہ ہزاروں فتاویٰ جاری ہوتے ہیں اورجن کا باقاعدہ ریکارڈ رکھاجاتا ہے، اس وقت تک تقریباً تین لاکھ سے زائد فتاویٰ جاری ہوچکے ہیں۔
جو غیرمسلم برضا ورغبت اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں انہیں دار الافتاء میں کلمہ کی تلقین کی جاتی ہے اور”سنداسلام“ بھی جاری کی جاتی ہے، اب تک تقریباً ساڑھے چھ ہزار غیر مسلم دار الافتاء آکر اسلام قبول کرچکے ہیں۔

سوال پوچھنے کے لیے رجسٹر ہونا لازمی ہے۔ ویب سائٹ میں رجسٹر کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئے سوالات
0