زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰۱۰ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

نظم ونسق

جامعہ کے بانی حضرت علامہ بنوری رحمہ اللہ کی دو مجلس شوریٰ تھیں،ایک خاص اور دوسری عام،“مجلس خاص”جامعہ کے منتخب اساتذہ پر مشتمل تھی، جن سے جامعہ کے خاص انتظامی امور میں آپ مشورہ فرماتے تھے، اور “مجلس عام” میں جامعہ کے تمام اساتذہ شامل تھے، اس مجلس میں علمی اور درسی امور کے متعلق مشورہ ہوتا تھا۔

حضرت اقدس مولانا بنوری نور اللہ مرقدہ کی وفات ( مولانا مفتی احمد الرحمن رحمہ اللہ نے جامعہ کا اہتمام اور نظم ونسق خیر وخوبی سے چلایا اور اپنے اکابر کے منشا اور ان کی امیدوں کے مطابق جامعہ کو ترقی دی، الحمد للہ! اس کی کئی شاخیں قائم ہوئیں، جن کی تفصیل عنقریب آجائے گی، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے، علم اور اہل علم کی طرف سے انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔
مولانا مفتی احمد الرحمن رحمہ اللہ کی وفات (۱۴/ رجب ۱۴۱۱ھ بمطابق۲۱ جنوری ۱۹۹۱ء) کے بعد جامعہ کی مجلس شوریٰ اور اساتذہ کا اجتماع منعقد ہوا اور ارکان مجلس نے بالاتفاق مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار صاحب رحمہ اللہ کو جامعہ کا مہتمم اورمولانا سید محمد بنوری رحمہ الله کونائب مہتمم مقرر کیا ۔

۲/رجب المرجب ۱۴۱۸ھ بمطابق ۲ نومبر ۱۹۹۷ء کو حضرت مولانا ڈاکٹر محمدحبیب اللہ مختار شہید رحمہ اللہ کی مظلومانہ شہادت کا سانحہٴ فا جعہ پیش آیا تو حسب معمول جامعہ کی عمومی شوریٰ (جس میں جامعہ اور شاخہائے جامعہ کے تمام اساتذہ شامل تھے) میں اتفاق رائے سے حضرت بنوری رحمہ اللہ کے رفیق سفر وحضر اور قابل فخر شاگرد حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب دامت برکاتہم کو جامعہ کا مہتمم مقرر کیا گیا اور حضرت مولانا سید محمد بنوری رحمہ الله کو نائب مہتمم کے عہدہ پربدستور برقرار رکھا ،پھر ۱۴۱۹ھ بمطابق ۱۹۹۸ء کو جب مولانا سید محمد بنوری رحمہ اللہ کی وفات کا سانحہ پیش آیا تو جامعہ کی مجلس شوریٰ نے حضرت بنوری رحمہ اللہ کے صاحبزادے مولانا سید سلیمان یوسف بنوری حفظہ اللہ کو جامعہ کا نائب مہتمم مقرر کیا ۔