زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰۱۰ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

گٹکا اور اس جیسی اشیاء کے کھانے کا حکم !

shaby پوچھتے ہیں: 

سوال

محترم مفتی صاحب!
السلام علیکم !
مجھے یہ معلوم کرنا تھا کہ یہ جوآج کل  مختلف قسم کے گٹکے وغیرہ کھانے کا رواج ہےاس کا کیا حکم ہے ؟
اوراس کو چھوڑنے کا کوئی ورد یا کوئی اورحل بتادیجئے۔

جزاک اللہ

سائل : شیبی

جواب

مذکورہ اشیاء میں ایسا نشہ نہیں ہوتا ہے جس کی وجہ سے عقل مغلوب ہو جائے اس لیے اسے نشہ آور تو نہیں کہا جا سکتا البتہ اس قسم کی اشیاء چونکہ صحت  کے لیے مضر ہیں اس لیے طبی نقطہ نگاہ سے ان پرہیز کیا جائے ،جیساکہ فتاویٰ شامی میں ہے :
[ص:46،ج:6،ط:ایچ ایم سعیدکراچی]۔ [ص:208،ج:3،ط:ایچ ایم سعید کراچی ]

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں