زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰۱۰ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

جسم کے فالتوبالوں کا حکم !

Hassan Hanif پوچھتے ہیں: 

سوال

محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ ہمارے جسم کے کن کن جگہ کے بال کاٹنے کا حکم ہے ؟
تھوڑی وضاحت سے بتائیں ۔

جزاكم الله

سائل : حسن حنیف

جواب

صورت مسئولہ میں انسانی جسم میں جن بالوں کے کاٹنے کا حکم شریعت نے دیا ہے وہ یہ ہے ۔
1۔مونچھوں کے بال اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ ان کو اس قدر تراشاجائے کہ لبوں پر نہ آئیں اگر اس قدر مبالغہ کیا ھائے کہ مونچھیں بالکل کٹی ہوئی محسوس ہوں تو یہ بہتر ہے اور بالکل استرے سے صاف بھی کرسکتے ہیں ۔
چنانچہ حدیث شریف میں ہے :
"قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : خالفواالمشرکین ،واخفوا الشوارب وافواللحیٰ" ۔( مشکوٰۃ المصابیح ،ص:380)
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشرکین کی مخالفت کیا کرو مونچھوں کو اچھی طرح تراشو اور داڑھی خوب بڑھاؤ۔
2۔بغل کے بال ان کے متعلق حکم یہ ہے کہ ان کو نوچا جائے اگر کسی کو نوچنے میں دشواری ہو توپھر کاٹا جائے۔ 3۔زیرِ ناف بال کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ عورت کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ کسی کریم وغیرہ کولگاکر صاف کریں اور مردوں کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ استرے یاریزرسے صاف کریں اگر مرد کریم اور عورت استراء استعمال کرے تو بھی جائزہے ۔
بغل اورزیرناف بال کی مدت یہ ہے کہ بہتر یہ ہے کہ ہر ہفتہ میں ان کو کاٹا جائے اور یہ صفائی کرنا افضل ہے اگر ہفتہ میں موقع نہ ملے تو پندرہوئے دن اس کی صفائی کریں ،چالیس دن سے زیادہ چھوڑنا گناہ ہے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں