زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰۱۰ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

ULOAN سروس اوراس کا حکم !

abdullah-sarhadi پوچھتے ہیں: 

سوال

محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
ایک سوال کا جواب درکار ہے۔ آج کل ہمارے ہاں پاکستان میں کام کرنے والی مختلف کمپنیز صارفین کو قرض کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ اب یہ قرض صارف صرف کال کرنے یا میسج بھیجنے کے لیے استعمال کرتا ہے اور اس رقم (قرض) کو کہیں اور استعمال کرنے سے قاصر ہے کیوں کہ رقم صرف کال یا میسج کے لیے استعمال میں لائی جاسکتی ہے۔
اس کے ساتھ یہ پابندی بھی رکھی گئی ہے کہ اگر یوفون کا پندرہ روپے کا قرض لیا جائے تو اس کے بدلے میں پندرہ روپے اور ساٹھ پیسے واپس لیے جاتے ہیں، اسی طرح دیگر کمپنیوں موبلنک اور ٹیلی نار کا بھی ایک مقررہ حد تک اضافی پیسے شامل ہیں۔
یہاں پر یہ وضاحت درکار ہے کہ کمپنیز کہتی ہیں کہ یہ گورنمٹ کی طرف سے ٹیکس کی مد میں ہے جو صارفین کو سہولت فراہم کرنے کے بدلے لیا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ رقم اضافی جو لے رہے ہیں سود کے زمرے میں شامل ہے یا نہیں؟
نیز حضرت مفتی صاحب عرض ہے کہ سود کی تعریف کیا کہلائے گی؟

جزاک اللہ

سائل : عبداللہ سرحدی

جواب

آپ کے سوال کا جواب دیا جاچکا ہے براہ کرم اس لنک پر جاکے اپنا مطلوبہ سوال پڑھ لیں۔
http://banuri.edu.pk/ur/node/914

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی جامع ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں