میرا قسطوں کا کاروبار ہے،کبھی کبھار کسی کو پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے تو میں اسے قسطوں پر موبائل دے دیتا ہوں،اس کے بعد وہ اسے بیچنا چاہتا ہے، تاکہ اس کی رقم کیش ہو سکےتو کیا میں اس سے واپس کیش پر لے سکتا ہوں ؟ اگر نہیں لے سکتا تو کیا میں اسے زیادہ نقصان سے بچنے کے لیے دوسرا کوئی دکان دار بتا سکتا ہو ں کہ اس بندے پر بیچ دو ،تا کہ وہ زیادہ نقصان سے بچ سکے۔
نمبر 2:اور اگر کوئی مجھے میراقسطوں پر دیا ہوا موبائل واپس مجھے ایک یا دو ماہ بعد بیچنے کا کہے جو کہ اس نے اپنے استعمال کےلیے لیا تھا ،اب اس کو پیسوں کی ضرورت ہے تو کیا میں اس سے واپس لے سکتا ہوں، یاد رہے کہ اس کے اوپر ابھی بھی میری قسطیں باقی ہیں۔
1۔ صورت ِ مسئولہ میں مذکورہ صورت( کہ کسی کو پیسوں کی ضرورت ہو اور سائل اسے قسطوں پر موبائل فروخت کردے تاکہ وہ اسے سائل کو بیچ کر یا کسی تیسرے کو بیچ کر نقد رقم حاصل کرکے اپنی ضرورت پوری کرے) اصطلاح شرع میں بیع عینہ کہلاتی ہے اور "بیعِ عینہ" کا حکم یہ ہے کہ ایسا معاملہ کرنا مکروہِ تحریمی (ناجائز) ہے، اور یہ سود کھانے کا قبیح ترین حیلہ ہے، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ’’ اس قسم کی بیع کا بوجھ میرے دل میں پہاڑ کی مانند ہے، یہ قبیح ترین معاملہ ہے جس کو سود خوروں نے (بطورِ حیلہ ) ایجاد کیا ہے۔‘‘
حدیث شریف میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم "بیعِ عینہ" کرو گے اور گائے کی دموں کے پیچھے پڑجاؤگے اور زراعت میں گم ہوجاؤ گے اور جہاد چھوڑ دوگے تو اللہ تم پر ذلت و رسوائی مسلط کردے گا، یہاں تک کہ تم دوبارہ اپنے دین کی طرف نہ لوٹ آؤ۔ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ تم ذلیل ہو جاؤگے اور دشمن تم پر غالب ہو جائے گا۔ ایک اور روایت میں یہ بھی آتا ہے : اللہ تعالیٰ تمہارے بدترین لوگوں کو تم پر مسلط کردیں گے، پھر تمہارے بہترین (نیک) لوگ دعائیں مانگیں گے، لیکن ان کی دعائیں قبول نہیں ہوں گی۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ طریقے پر مذکورہ سودا کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ اس طریقہ کو ترک کرنا لازم ہے، عربی زبان میں ایک قول ہے کہ :’’إياك والعينة؛ فإنها اللعينة‘‘یعنی بیع عینہ سے بچو کیوں کہ بیع عینہ لعنت کا باعث ہے۔
2:واضح رہے کہ قسطوں پر موبائل فروخت کرنے کے بعد خریدنے والا اس کا مالک بن جاتا ہے، اور اس کا ثمن خریدنے والے کے ذمہ دین ہوتا ہے، اگراس موبائل کی مکمل اقساط کی ادائیگی سے پہلے موبائل فروخت کرنے والا دوبارہ لینا چاہے تو موبائل جتنے میں فروخت کیا تھا اس سے کم قیمت پر خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
لہذا صورت ِ مسئولہ میں اگر سائل قسطوں پر دیا گیا موبائل کسٹمر سے دوبارہ خریدنا چاہتا ہے تو اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ جتنی قیمت پر اس نے موبائل فروخت کیا تھا ،اسی قیمت پر سائل کے لیے لینا جائز ہے ، اس سے کم قیمت پر لینا جائز نہیں ہے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(قوله: في بيع العينة) اختلف المشايخ في تفسير العينة التي ورد النهي عنها. قال بعضهم: تفسيرها أن يأتي الرجل المحتاج إلى آخر ويستقرضه عشرة دراهم ولايرغب المقرض في الإقراض طمعاً في فضل لايناله بالقرض فيقول: لا أقرضك، ولكن أبيعك هذا الثوب إن شئت باثني عشر درهماً وقيمته في السوق عشرة؛ ليبيعه في السوق بعشرة، فيرضى به المستقرض فيبيعه كذلك، فيحصل لرب الثوب درهماً وللمشتري قرض عشرة. وقال بعضهم: هي أن يدخلا بينهما ثالثاً فيبيع المقرض ثوبه من المستقرض باثني عشر درهماً ويسلمه إليه ثم يبيعه المستقرض من الثالث بعشرة ويسلمه إليه ثم يبيعه الثالث من صاحبه وهو المقرض بعشرة ويسلمه إليه، ويأخذ منه العشرة ويدفعها للمستقرض فيحصل للمستقرض عشرة ولصاحب الثوب عليه اثنا عشر درهماً، كذا في المحيط،... وقال محمد: هذا البيع في قلبي كأمثال الجبال ذميم اخترعه أكلة الربا. وقال عليه الصلاة والسلام: «إذا تبايعتم بالعينة واتبعتم أذناب البقر ذللتم وظهر عليكم عدوكم»".
(کتاب البیوع، باب الصرف، ج:5 ،ص:273، ط:سعید)
وفیه أیضاً:
"فيأتي إلى تاجر فيطلب منه القرض ويطلب التاجر منه الربح ويخاف من الربا فيبيعه التاجر ثوباً يساوي عشرة مثلاً بخمسة عشر نسيئةً فيبيعه هو في السوق بعشرة فيحصل له العشرة ويجب عليه للبائع خمسة عشر إلى أجل أو يقرضه خمسة عشر درهماً ثم يبيعه المقرض ثوباً يساوي عشرة بخمسة عشرة، فيأخذ الدراهم التي أقرضه على أنها ثمن الثوب فيبقى عليه الخمسة عشر قرضاً درر.
ومن صورها: أن يعود الثوب إليه كما إذا اشتراه التاجر في الصورة الأولى من المشتري الثاني ودفع الثمن إليه ليدفعه إلى المشتري الأول، وإنما لم يشتره من المشتري الأول تحرزاً عن شراء ما باع بأقل مما باع قبل نقد الثمن... (قوله: وهو مكروه) أي عند محمد، وبه جزم في الهداية... وقال محمد: هذا البيع في قلبي كأمثال الجبال ذميم اخترعه أكلة الربا، وقد ذمهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «إذا تبايعتم بالعينة واتبعتم أذناب البقر ذللتم وظهر عليكم عدوكم» أي اشتغلتم بالحرث عن الجهاد. وفي رواية: «سلط عليكم شراركم فيدعوا خياركم فلايستجاب لكم». وقيل: إياك والعينة؛ فإنها اللعينة."
(کتاب الکفالة، مطلب بیع العینة، ج:5،ص:325 ط:سعید)
الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:
"ويمكن تعريفها - أخذاً مما يأتي - بأنها: قرض في صورة بيع، لاستحلال الفضل... وتئول العملية إلى قرض عشرة، لرد خمسة عشر، والبيع وسيلة صورية إلى الربا ... حكمها: اختلف الفقهاء في حكمها بهذه الصورة: فقال أبو حنيفة ومالك وأحمد: لايجوز هذا البيع. وقال محمد بن الحسن: هذا البيع في قلبي كأمثال الجبال، اخترعه أكلة الربا ... روي عن ابن عمر رضي الله عنهما، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إذا ضن الناس بالدينار والدرهم، وتبايعوا بالعينة، واتبعوا أذناب البقر، وتركوا الجهاد في سبيل الله، أنزل الله بهم بلاءً، فلايرفعه حتى يراجعوا دينهم. وفي رواية: إذا تبايعتم بالعينة، وأخذتم أذناب البقر، ورضيتم بالزرع، وتركتم الجهاد، سلط الله عليكم ذلاً، لاينزعه حتى ترجعوا إلى دينكم".
(بیع العینة، ج:9 ،ص:96 ط:دار السلاسل)
فتاوی شامی میں ہے :
"(و) فسد (شراء ما باع بنفسه أو بوكيله) من الذي اشتراه ولو حكما كوارثه (بالأقل) من قدر الثمن الأول (قبل نقد) كل (الثمن) الأول. صورته: باع شيئاً بعشرة ولم يقبض الثمن ثم شراه بخمسة لم يجز وإن رخص السعر للربا خلافاً للشافعي (وشراء من لاتجوز شهادته له) كابنه وأبيه (كشرائه بنفسه) فلا يجوز أيضاً خلافاً لهما في غير عبده ومكاتبه (ولابد) لعدم الجواز (من اتحاد جنس الثمن) وكون المبيع بحاله (فإن اختلف) جنس الثمن أو تعيب المبيع (جاز مطلقاً)كما لو شراه بأزيد أو بعد النقد.
(قوله: وفسد شراء ما باع إلخ) أي لو باع شيئاً وقبضه المشتري ولم يقبض البائع الثمن فاشتراه بأقل من الثمن الأول لايجوز زيلعي: أي سواء كان الثمن الأول حالاً أو مؤجلاً هداية، وقيد بقوله: وقبضه؛ لأن بيع المنقول قبل قبضه لايجوز ولو من بائعه كما سيأتي في بابه، والمقصود بيان الفساد بالشراء بالأقل من الثمن الأول. قال في البحر: وشمل شراء الكل أو البعض.
(قوله: جاز مطلقاً) أي سواء كان الثمن الثاني أقل من الأول أو لا؛ لأن الربح لايظهر عند اختلاف الجنس. اهـ منح؛ ولأن المبيع لو انتقص يكون النقصان من الثمن في مقابلة ما نقص من العين سواء كان النقصان من الثمن بقدر ما نقص منها أو بأكثر منه بحر عن الفتح (قوله: كما لو شراه إلخ) تشبيه في الجواز مع قطع النظر عن قوله مطلقاً (قوله: بأزيد أو بعد النقد) ومثل الأزيد المساوي كما في الزيلعي، وهذا قول المصنف بالأقل قبل نقد الثمن".
(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، ج:5، ص:73، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتوی نمبر : 144609100945
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن