میری عمر ساٹھ سال ہے، ایک سال پہلے میری بیوی کی وفات ہوئی ہے،میری چار بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے، جب کہ ایک بیٹی کے علاوہ سب بچے شادی شدہ ہیں، میرا گھر ایک کنال کا ہے اور میں مالی طور پر بھی خوش حال ہوں، میں کسی بیوہ، مطلقہ اور عمر رسیدہ خاتون سے شادی کرنا چاہتا ہوں ، اس سلسلہ میں شرعی احکام کیا ہیں۔ مجھے ایسا کرنا چاہیے یا نہیں ؟ تفصیلًا جواب دے کر مشکور فرمائیں۔
واضح رہے کہ بیوہ عورت سے نکاح کرنا کوئی عیب کی بات نہیں، بلکہ کارِ ثواب ہے، دینی ماحول کے فقدان اور اسلامی تعلیمات سے ناواقفیت کی بناپر لوگ بیوہ کے نکاحِ ثانی کو معیوب سمجھتے ہیں، حال آں کہ بیوہ کا نکاح نہ کرنا زمانہ جاہلیت کی رسم ہے، عرب میں یہ رسم تھی کہ جب کوئی شخص مال چھوڑ کر مر جاتا تو اس کی بیوی کو نکاح نہ کرنے دیتے، تاکہ اس کا مال اس کے پاس رہے۔ قرآن کریم نے اس رسم کو توڑا اورنکاح کی اجازت دی ۔
سورۂ بقرۃ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ۖ فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ [البقرة : 234]
ترجمہ :’’اور جو لوگ تم میں سے وفات پاجاتے ہیں اور بیبیاں چھوڑ جاتے ہیں وہ بیبیاں اپنے آپ کو (نکاح وغیرہ سے) روکے رکھیں چار مہینے اور دس دن پھر جب اپنی میعاد (عدت) ختم کرلیں تو تم کو کچھ گناہ نہ ہوگا ایسی بات میں کہ وہ عورتیں اپنی ذات کے لیے کچھ کاروائی (نکاح کی) کریں قاعدے کے موافق اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام افعال کی خبر رکھتے ہیں ‘‘۔
تفسیر عثمانی میں ہے :
’’جب بیوہ عورتیں اپنی عدّت پوری کرلیں یعنی غیر حاملہ چار ماہ دس روز اور حاملہ مدتِ حمل تو ان کو دستور شریعت کے موافق نکاح کر لینے میں کچھ گناہ نہیں اور زینت اور خوش بو سب حلال ہیں‘‘۔
مشکاۃ شریف کی روایت میں ہے :
’’حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی ! تین باتوں کے کرنے میں دیر نہ کیا کرنا۔ ایک تو نماز ادا کرنے میں جب کہ وقت ہو جائے، دوسرے جنازے میں جب تیار ہوجائے اور تیسری بے خاوند عورت کے نکاح میں جب کہ اس کا کفو (یعنی ہم قوم مرد) مل جائے‘‘۔
اس حدیثِ مبارک کی تشریح میں علامہ نواب قطب الدین خان دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
’’.... اس موقع پر حدیث کی مناسبت سے ایک تکلیف دہ صورتِ حال کی طرف مسلمانوں کی توجہ دلا دینا ضروری ہے، آج کل یہ عام رواج سا ہوتا جا رہا ہے کہ لڑکیوں کی شادی میں بہت تاخیر کی جاتی ہے، اکثر تاخیر تو تہذیبِ جدید کی اتباع اور رسم و رواج کی پابندی کا نتیجہ ہوتی ہے ... پھر نہ صرف یہ کہ کنواری لڑکیوں کی شادی میں تاخیر کی جاتی ہے، بلکہ اگر کوئی عورت شوہر کے انتقال یا طلاق کی وجہ سے بیوہ ہوجاتی ہے تو اس کے دوبارہ نکاح کو انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے، اس طرح اس بے چاری کے تمام جذبات و خواہشات کو فنا کے گھاٹ اتار کر اس کی پوری زندگی کو حرمان و یاس، رنج و الم اور حسرت و بے کیفی کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ یہ تو تقریباً سب ہی جانتے ہیں کہ تمام اہل سنت و الجماعت کا متفقہ طور پر یہ عقیدہ ہے کہ جو آدمی کسی معمولی سنت کا بھی انکار کرے یا اس کی تحقیر کرے تو وہ کافر ہو جاتا ہے اور یہ سبھی لوگ جانتے ہی کہ بیوہ عورت کا نکاح کرنا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ عظیم و مشہور سنت ہے جس کی تاکید بے شمار احادیث سے ثابت ہے۔ لیکن ! افسوس ہے کہ مسلمان جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سے محبت کا اقرار کرتے ہیں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت پر پابندی کے ساتھ عمل کرنے کا کوئی جذبہ نہیں رکھتے۔ کتنے تعجب کی بات ہے کہ کوئی آدمی تو اپنی مجبوریوں کی آڑ لے کر لڑکیوں کی شادی میں تاخیر کرتا ہے، کوئی تہذیب جدید اور فیشن کا دل دادہ ہو کر اس سعادت سے محروم رہتا ہے اور کوئی آدمی طعن و تشنیع کے خوف سے بیوہ کی شادی کرنے سے معذوری ظاہر کرتا ہے، گویا وہ لوگوں کے طعن و تشنیع کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر ترجیح دیتا ہے، حال آں کہ دانش مندی کا تقاضا تو یہ ہے گویا وہ لوگوں کے اس طعن و تشنیع کو اپنے لیے باعثِ سعادت اور قابلِ فخر جانے کہ انبیاء علیہم السلام اور اللہ کے نیک بندوں کے اچھے کاموں پر ہمیشہ ہی لوگوں نے طعن و تشنیع کی ہے، مگر ان لوگوں نے اللہ کے حکم کی اطاعت و فرماں برداری اور نیک کاموں میں کبھی کوتاہی یا قصور نہیں کیا ... حضرت مولانا الشاہ عبدالقادر رحمہ اللہ نے آیت(وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ)کے ضمن میں اس حدیث کا ترجمہ اس طرح کیا ہے۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی ! تین کاموں میں دیر نہ کرو۔ (١) فرض نماز کی ادائیگی میں جب کہ اس کا وقت ہو جائے۔ (٢) جنازے میں جب کہ موجود ہو۔ (٣) بیوہ عورت (کے نکاح میں) جب کہ اس کی ذات (و مرتبہ) کا مرد مل جائے ۔ جو شخص (بیوہ کو ) دوسرا خاوند کرنے میں عیب لگائے (تو سمجھو کہ) اس کا ایمان سلامت نہیں ہے ‘‘۔
ان آیات واحادیث سے معلوم ہواکہ بیوہ کانکاح شرعاً کوئی معیوب نہیں ہے ، لہذااگر سائلجسمانی اور مالی طاقت رکھتا ہو تو اس کا کسی بیوہ عورت سے نکاح کرنا نہ صرف جائز ہے، بلکہ شرعاً ایک مستحسن امر ہے ۔ فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144209202202
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن