ہمارےہاں یہ کہاجاتاہے کہ عدت وفات پوری ہونے پر فوراً عورت کا گھر سے باہر نکلنا ضروری ہے حضرت کیا یہ درست ہے اور کیا عدت طلاق میں عدت پوری ہونے پر فوراً شوہر کے گھر سے نکلنا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ عدت کے دن جب ختم ہوجائیں تو عدت ختم ہو تے ہی جو پابندیاں عورت پر لازم تھیں اب وہ پابندیاں نہیں رہیں، اس کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اگر اس موقع پر کسی چیز کو شرعاً لازم اور ضروری سمجھ کر کیا جائے تو یہ عمل ناجائز ہوگا۔
صورت مسئولہ میں عدت وفات /طلاق پوری ہو نے کے فورابعد گھر سے نکلنے کو لازم سمجھنا یہ جائز نہیں ہے ، البتہ اگر عورت عدت طلاق اپنے شوہر کے گھر گزار رہی ہے تو عدت ختم ہو نے کے بعد عورت اپنے والدین کے گھر چلی جائے ۔
تفسير ابن كثير میں ہے :
"فإذا انقضت عدتها فلا جناح عليها أن تتزين وتتصنع وتتعرض للتزويج، فذلك المعروف. وروي عن مقاتل بن حيان نحوه، وقال ابن جريج عن مجاهد فلا جناح عليكم فيما فعلن في أنفسهن بالمعروف قال: النكاح الحلال الطيب، وروي عن الحسن والزهري والسدي ونحو ذلك".
(سورۃ البقرۃ،1/ 483،دار الکتب العلمية )
فقط والله أعلم
فتوی نمبر : 144406100318
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن