بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 شوال 1446ھ 20 اپریل 2025 ء

دارالافتاء

 

احرام میں ٹوتھ برش اور مونچھ کاٹنے کا حکم


سوال

میں عمرہ کےلیے آیا ہوا ہوں، مدینہ سے واپسی پر میرا دوسرا عمرہ تھا میں سخت بیمار ہو گیا ،مکہ پہنچ کر میں نے رات کو عمرہ ادا نہیں کیا بلکہ طبیعت بہتر ہونے کا انتظار کیا،صبح واش ر وم میں برش کرنے گیا تو غلطی سے میں نےمونچھوں پر مشین مار لی، قرآن وسنت کی روشنی میں مسئلہ بتائیے۔

جواب

 واضح رہے کہ ٹوتھ پیسٹ  میں اگر خوشبودار چیزیں ڈالی گئی ہوں،خوشبودار چیزیں مقدار میں کم ہوں اور ٹوتھ پیسٹ   کی مقدار زیادہ ہوتوایسا ٹوتھ پیسٹ   احرام کی حالت میں استعمال کرنا مکروہ تو ہے،مگر اس کی وجہ سے کوئی دم یا صدقہ لازم نہیں ہوگا،اور اگر خوشبودارچیزوں کی مقدار زیادہ ہو اور ٹوتھ پیسٹ   کی مقدار کم ہوتو اس صورت میں اگر ٹوتھ پیسٹ    پورے منہ یا منہ کے اکثر حصے میں لگ جائے تو دم واجب ہوگا ،البتہ اگر ٹوتھ پیسٹ سادہ ہو اس میں کسی قسم کی خوشبو یا خوشبودار چیز نہ ملائی گئی ہوتو وہ استعمال کرنا جائز ہے،اس سے دم یا صدقہ لازم نہیں ہوگا۔

لہذا صورت ِ مسئولہ میں سائل نے احرام کی حالت میں   جو برش کیا  اس کی وجہ سے صدقہ یا دم لازم ہونے میں وہی تفصیل ہے جو اوپر ذکر کی گئی،سائل اسی کے مطابق عمل کرلے ،باقی مونچھ کاٹنے کی وجہ سے  سائل پر صدقہ فطر کے بقدر صدقہ  لازم ہوگا ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"اعلم أن خلط الطيب بغيره على وجوه لأنه إما أن يخلط بطعام مطبوخ أو لا ففي الأول لا حكم للطيب سواء كان غالبا أم مغلوبا، وفي الثاني الحكم للغلبة إن غلب الطيب وجب الدم، وإن لم تظهر رائحته كما في الفتح، وإلا فلا شيء عليه غير أنه إذا وجدت معه الرائحة كره، وإن خلط بمشروب فالحكم فيه للطيب سواء غلب غيره أم لا غير أنه في غلبة الطيب يجب الدم، وفي غلبة الغير تجب الصدقة إلا أن يشرب مرارا فيجب الدم. وبحث في البحر أنه ينبغي التسوية بين المأكول والمشروب المخلوط كل منهما بطيب مغلوب. إما بعدم وجوب شيء أصلا أو بوجوب الصدقة فيهما، وتمامه فيه.۔۔۔۔۔۔۔۔وأما إذا خلط بما يستعمل في البدن كأشنان ونحوه، ففي شرح اللباب عن المنتقى: إن كان إذا نظر إليه قالوا هذا أشنان فعليه صدقة، وإن قالوا هذا طيب عليه دم."

(کتاب الحج ،باب الجنایات،ج:2،ص:547،سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"فإذا استعمل الطيب فإن كان كثيراً فاحشاً ففيه الدم، وإن كان قليلاً ففيه الصدقة ، كذا في المحيط. واختلف المشايخ في الحد الفاصل بين القليل والكثير، فبعض مشايخنا اعتبروا الكثرة بالعضو الكبير نحو الفخذ والساق، وبعضهم اعتبروا الكثرة بربع العضو الكبير، والشيخ الإمام أبو جعفر اعتبر القلة والكثرة في نفس الطيب إن كان الطيب في نفسه بحيث يستكثره الناس ككفين من ماء الورد، وكف من الغالية والمسك، بقدر ما استكثره الناس فهو كثير، وما لا فلا، والصحيح أن يوفق ويقال: إن كان الطيب قليلاً فالعبرة للعضو لا للطيب، حتى لو طيب به عضواً كاملاً يكون كثيراً يلزمه دم، وفيما دونه صدقة، وإن كان الطيب كثيراً فالعبرة للطيب لا للعضو حتى لو طيب به ربع عضو يلزمه دم، هكذا في محيط السرخسي والتبيين. هذا في البدن وأما الثوب والفراش إذا التزق به طيب اعتبرت فيه القلة والكثرة على كل حال، وكان الفارق هو العرف، وإلا فما يقع عند المبتلى، كذا في النهر الفائق".

(کتاب المناسک ،الباب الثامن فی الجنایات،الفصل الاول فی ما یجب بالتطیب ،ج:1،ص:240،دارالفکر)

غنية الناسك ميں هے :

"فلو اكل طيبا كثيرا،وهو أن يلتصق باكثر فمه يجب الدم ،وإن كان قليلا بأن لم يلتصق بأكثر فمه فعليه الصدقة،هذا اذا اكله كما هو من غير خلط أو طبخ ،فلو جعله في الطعام وطبخه فلا بأس بأكله ؛لأنه خرج من حكم الطيب وصار طعاما ."

(باب الجنایات،الفصل الاول فی الطیب ،ص؛246،ادارۃ القرآن)

فتاوی رحیمیہ میں ہے :

"اگر منجن یا ٹوتھ پیسٹ میں لونگ ،کافور ،الائچی یا خوشبو دار چیزیں ڈالی گئی ہوں اور وہ پکی ہوئی نہ ہوں اور مقدار کے اعتبار سے خوشبو دار چیز مغلوب ہو (یعنی کم ہو ) تو ایسا منجن احرام کی حالت میں استعمال کرنا مکروہ ہوگا ،مگر صدقہ واجب نہ ہوگا اور اگر منجن یا ٹوتھ پیسٹ میں خوشبودار چیز غالب ہو تو چوں کہ منجن یا ٹوتھ پیسٹ پورے منہ یا اکثر حصہ میں لگ جائے گا ؛لہذا دم واجب ہوگا ،بہتر یہ ہے کہ احرام کی حالت میں مسواک ہی استعمال کرے ،منجن یا ٹوتھ پیسٹ  استعمال نہ کرے ،اس سے سنت بھی ادا نہ ہوگی ؛اس لیے مسواک کو اختیار کرنا چاہیے ."

(کتاب الحج،جنایات اور دم ،ج:8،ص:104،دارالاشاعت)

غنیۃ الناسک میں ہے :

"ولو حلق شاربه كله أو بعضه،أو قصه فعليه صدقة،وهو المذهب الصحيح،لأنه بعض اللحية،ولا يبلغ ربع المجموع."

(فصل في الحلق وازالة الشعر،ص:257،ادارة القرآن)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144606102606

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں