کیا یہ درست ہے کہ فجر کی سنتیں اور پھر فرض نماز کا درمیانی وقفہ کم سےکم اتنا ہونا چاہیے جس میں کم سے کم دو رکعت پڑھی جائیں؟
فجر کی سنتوں اور فرض کے درمیان فصل کے حوالے سے فقہاء کے دو قول ہیں: ایک یہ کہ اجالے میں پڑھی جائیں، یعنی فرض نماز سے کچھ پہلے۔ دوسرا یہ کہ صبح صادق کے بعد پہلے وقت میں پڑھی جائیں ، البحر الرائق میں دوسرے قول کو مسنون کہا گیا ہے، اس لحاظ سے فجر کی سنتوں اور فرض میں انفصال (تاخیر)سے کوئی حرج نہیں۔
البحر الرائق میں ہے:
"والسنة في ركعتي الفجر ثلاث أحدها أن يقرأ في الركعة الأولى {قل يا أيها الكافرون} [الكافرون: 1] وفي الثانية الإخلاص والثانية أن يأتي بهما أول الوقت والثالثة أن يأتي بهما في بيته."
(البحرالرائق، كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، 52/2، دارالكتاب الاسلامي)
فقط والله اعلم
فتوی نمبر : 144404100424
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن