بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شوال 1446ھ 04 اپریل 2025 ء

دارالافتاء

 

حیض کا خون رکنے کے بعد ہم بستری کرنے کا حکم


سوال

اگر عورت کو حیض کا خون آنا رک جائے، لیکن ابھی غسل کر کے خود کو پاک نہ کیا ہو تو شوہر اس کے ساتھ ہم بستری کر سکتا ہے؟

جواب

عورت کے ماہواری کا خون رک جانے کے بعد ہم بستری کرنے کے حکم میں تفصیل  یہ ہے کہ اگر خون اپنی پوری مدت یعنی دس دن  پورے ہونے کے بعد رکا ہو تو خون منقطع ہوتے ہی   غسل سے قبل  عورت  سے ہم بستری کرنا درست ہے، اگرچہ بہتر یہ ہے کہ غسل کے بعد ہم بستری کرے۔ اور اگر دس دن سے پہلے ماہواری ختم ہو گئی، مثلاً: چھ، سات روز میں اور عورت کی عادت بھی چھ یا سات روز کی تھی تو خون کے موقوف ہوتے ہی  ہم بستری درست نہیں، بلکہ حیض ختم ہونے کے بعد جب عورت غسل کر لے یا ایک نماز کا وقت گزر جائے (جس میں غسل کرکے کپڑے پہن کر نماز شروع کرسکے)  اس کے بعد ہم بستری کرنا درست ہو گی۔ اور اگر عادت کے ایام سے پہلے ہی خون بند ہوگیا ہو اس صورت میں عادت کے ایام مکمل ہونے سے پہلے ہم بستری جائز نہیں؛ کیوں کہ ممکن ہے کہ وقتی طور پر خون بند ہواہو اور دوبارہ لوٹ کر آجائے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 294):

"(ويحل وطؤها إذا انقطع حيضها لأكثره) بلا غسل وجوبا بل ندبا. (وإن) انقطع لدون أقله تتوضأ وتصلي في آخر الوقت، وإن (لأقله) فإن لدون عادتها لم يحل، وتغتسل وتصلي وتصوم احتياطا؛ وإن لعادتها، فإن كتابية حل في الحال وإلا (لا) يحل (حتى تغتسل) أو تتيمم بشرطه  (أو يمضي عليها زمن يسع الغسل) ولبس الثياب (والتحريمة) يعني من آخر وقت الصلاة لتعليلهم بوجوبها في ذمتها."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144202200889

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں