جواب تنقیح :
سوال نمبر 1 کا جواب: اس سے پہلے مہینے 9 جولائی کو خون آنا شروع ہوا، جو پورے 15 دن طہر کے بعد آیا تھا اور وہ 18 جولائی کو بند ہوگیا (9دن حیض کے) اس کے 14 دن بعد خون آنا شروع ہوا یعنی 1 اگست کو جس کو استحاضہ شمار کیا جو جاری رہا اور 10 اگست کو ختم ہوا۔ (9 دن حیض کے شمار کیے تھے ایک دن استحاضہ کا پہلی اگست والا) اس کے بعد دوبارہ 25 اگست کو خون آنا شروع ہوگیا (طہر کے 15 دن مکمل) ہونے کے بعد باقی تفصیل پہلے دی تھی اس کے بعد کی۔
غرض کہ 8 یا 9 دن حیض کے رہتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ 15 دن طہر کے، ستمبر کے مہینے میں کافی عرصے بعد ایسا مسئلہ سامنے آیا۔
سوال نمبر 2 کا جواب: 15 ستمبر سے جو خون آنا شروع ہوا تھا وہ مسلسل جاری رہا عام حیض کی طرح اور پھر میں نے 23 کی دوپہر کو پاک ہوکر نماز شروع کردی تھی مگر 24 اگست کو دوبارہ ایک رائی کے برابر ہرے رنگ کا داغ آیا، پھر نماز ترک کردی تیسری بار 26 اگست کو بہت ہلکا گلابی رنگ کا پانی آیا تھا، دوپہر کے وقت پھر سہ پہر کے بعدسے سفیدی قائم رہی؛ اس لیے شام تک نہا کر نماز پڑھنی شروع کردی تھی۔
واضح رہے کہ ایک حیض کے ختم ہونے اور دوسرے حیض شروع ہونے کے درمیان کم از کم پندرہ دن پاکی ہونا شرعاً ضروری ہے، پندرہ سے پہلے دوبارہ خون آنا شروع ہوجائے وه ماهواری کا خون نہیں ہوگا، اور اس صورت میں اگر وہ عورت معتادہ (اس کی عادت مقرر) ہو تو اس کی ماہواری اور پاکی اس کی عادت کے مطابق شمار ہوں گی۔
صورتِ مسئولہ میں چوں کہ آپ کی پاکی کی عادت پندرہ دن اور ماہواری کے ایام کی عادت نو دن ہے، لہذا تین ستمبر کو پاک ہونے کے بعد جب دوبارہ پندرہ ستمبر کو خون آیا تو یہ استحاضہ کا خون تھا، اس میں نماز پڑھنا اور روزے رکھنا اور شوہر کا صحبت کرنا سب جائز تھا۔ اور 18 ستمبر تک آپ پاک تھیں، اس کے بعد آپ کے ماہواری کے ایام 18 سے شمار ہوں گے اور آپ کی عادت کے موافق ماہواری کے ایام ہوں گے، لہذا 26 کو سفیدی آجانے کے بعد غسل کرکے آپ کے لیے نمازیں شروع کرنا جائز تھا، لیکن شوہر کے تعلق کے لیے عادت کے ایام مکمل ہونا ضروری ہے، اور چوں کہ عادت کے ایام میں ایک دن باقی تھا، اس لیے شوہر کے لیے عادت کے ایام پورے ہونے کے بعد ہم بستری کرنا جائز ہوگا۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 285):
"(وأقل الطهر) بين الحيضتين أو النفاس والحيض (خمسة عشر يومًا) ولياليها إجماعًا (ولا حد لأكثره)".
وفيه أيضًا (1 / 286):
"ثم قال في الفصل الرابع في الاستمرار: إذا وقع في المبتدأة فحيضها من أول الاستمرار عشرة وطهرها عشرون، ثم ذلك دأبها ونفاسها أربعون ثم عشرون طهرها إذ لا يتوالى نفاس وحيض، ثم عشرة حيضها ثم ذلك دأبها، وإن وقع في المعتادة فطهرها وحيضها ما اعتادت في جميع الأحكام إن كان طهرها أقل من ستة أشهر، وإلا فترد إلى ستة أشهر إلا ساعة وحيضها بحاله"
وفيه أيضًا (1/294) :
"(ويحل وطؤها إذا انقطع حيضها لاكثره) بلا غسل وجوبابل ندبا.(وإن) انقطع لدون أقله تتوضأ وتصلي في آخر الوقت، وإن (لاقله) فإن لدون عادتها لم يحل، أي الوطء وإن اغتسلت؛ لأن العود في العادة غالب بحر، وتغتسل وتصلي وتصوم احتياطا، وإن لعادتها، فإن كتابية حل في الحال وإلا (لا) يحل (حتى تغتسل) أو تتيمم بشرطه(أو يمضي عليها زمن يسع الغسل) ولبس الثياب."
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144203201347
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن