لڑکی مسلمان ہے اور لڑکا غیر مسلم ہے،وہ دونوں آپس میں شادی کرنا چاہتے ہیں ،لڑکا کہتا ہے کہ میں نکاح سے پہلے کورٹ میرج کروں گا ،اور نکاح کے وقت کلمہ پڑھوں گا،اور نکاح کے چند گھنٹے بعد ہندو رواج کے مطابق پھیرے ہوں گے، اور میں اپنے ڈاکومنٹس میں نام نہیں بدلوں گا، اب سوال یہ ہے کہ نکاح سے پہلے کورٹ میرج کرنا،اور نکاح کے بعد ہندوانہ رواج کے مطابق پھیرے لینا اور ڈاکومنٹس میں اپنا نام نہ بدلنا ،ان سب کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟نیز ایسی شادی میں شرکت جائز ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ کسی مسلمان کا غیر مسلم سے نکاح جائز نہیں ہے، قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے مسلمانوں کے لیے رشتہ ازدواج سے منسلک ہونے کے سلسلہ میں جو احکامات نازل فرمائے ہیں، ان میں رشتہ کرنے کی شرائط میں سے پہلی شرط اسلام بیان فرمائی ہے، چناں چہ مسلمان مردوں پر کافر خواتین کو اور مسلمان عورتوں پر کافر مردوں کو حرام قرار دیاہے، ان کے درمیان باہمی نکاح کو بھی حرام کردیا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں چوں کہ لڑکے کی مذکورہ باتوں سے معلوم ہو رہا ہے کہ وہ دل سے مسلمان نہیں ہونا چاہتا، محض لڑکی حاصل کرنے کا حیلہ کر رہا ہے، لہذا ایسا نکاح جائز نہیں ہے اور ایسی شادی میں شرکت بھی جائز نہیں ہے۔ بہر حال لڑکا اگر واقعی دل سے اسلام قبول کرنا چاہتا ہو تو غیر مشروط طور پر اسلام قبول کرے اور اس کا اعلان بھی کرے، پھر لڑکی اور اس کے گھر والے اس کی طرز زندگی کو بھی دیکھیں ، اگر مطمئن ہوں تو اسلامی طریقہ سے نکاح کریں، اور کسی قسم کے ہندوانہ رسم میں شریک نہ ہوں، اور جب تک لڑکا اسلام پر قائم رہے گا تب تک نکاح برقرار رہے گا، اور اگر لڑکا خدا نہ کرے پھرہندوانہ کفریہ عقائد اپناۓ گا تو مرتد شمار ہوگا اور نکاح ٹوٹ جاۓ گا۔
ارشاد ربانی ہے :
"﴿لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ ۖ ﴾."(الممتحنة: ١٠)
ترجمہ: " نہ وہ (مسلمان عورتیں) ان (کافر مردوں) کے لیے حلال ہیں، اور نہ ہی وہ (کافر) ان (مسلمان عورتوں) کے لیے حلال ہیں۔"
بدائع الصنائع میں ہے :
"ومنها: إسلام الرجل إذا كانت المرأة مسلمة فلا يجوز إنكاح المؤمنة الكافر؛ لقوله تعالى: {ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا} ولأن في إنكاح المؤمنة الكافر خوف وقوع المؤمنة في الكفر؛ لأن الزوج يدعوها إلى دينه، والنساء في العادات يتبعن الرجال فيما يؤثرون من الأفعال ويقلدونهم في الدين إليه وقعت الإشارة في آخر الآية بقوله عز وجل:{أولئك يدعون إلى النار}؛ لأنهم يدعون المؤمنات إلى الكفر، والدعاء إلى الكفر دعاء إلى النار؛ لأن الكفر يوجب النار، فكان نكاح الكافر المسلمة سببا داعيا إلى الحرام فكان حراما، والنص وإن ورد في المشركين لكن العلة، وهي الدعاء إلى النار يعم الكفرة، أجمع فيتعمم الحكم بعموم العلة فلا يجوز إنكاح المسلمة الكتابي كما لا يجوز إنكاحها الوثني والمجوسي؛ لأن الشرع قطع ولاية الكافرين عن المؤمنين بقوله تعالى:{ولن يجعل الله للكافرين على المؤمنين سبيلا}فلو جاز إنكاح الكافر المؤمنة لثبت له عليها سبيل، وهذا لا يجوز."
(کتاب النکاح ،فصل التأبید،ج:۲،ص:۲۷۲،دارالکتب العلمیه)
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144511100197
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن