میری کوئی ذاتی جائیداد نہیں ہے اور جمع شدہ رقم بھی نہیں ہے، میراجناح ہسپتال اور ناظم آباد کراچی نفسیاتی ہسپتال میں علاج جاری ہے،میراہسپتال کا خرچہ اور دیگر اخراجات کا خرچہ والدہ صاحبہ کرتی ہیں،میں دوائی زکات کی مد میں لیتاہوں تو پوچھنا یہ ہے کہ کیا میں صدقہ لے سکتا ہوں؟
صدقہ سے مراد اگر صدقہ نافلہ ہے جو انسان محض ثواب کی امید سے خرچ کرتا ہے، تو چوں کہ اس کا مصرف مستحق وغیر مستحق دونوں ہيں،اس لیے آپ صدقہ نافلہ لے سکتے ہيں۔
اور اگر صدقات واجبہ ہیں ،یعنی زکات، کفارات، فطرانہ ، منت و نذر وغیرہ تواگر واقعتاً آپ مستحق زکات ہيں یعنی آپ کی ملکیت میں بنیادی ضرورت ( یعنی رہنے کا مکان، گھریلوبرتن، کپڑے وغیرہ)سے زائد نصاب کے بقدر (یعنی صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی موجودہ قیمت کے برابر) اثاثے اور کوئی رقم بھی موجود نہيں هے اور آپ سید/ ہاشمی بھی نہیں ہیں تو آپ زکات لے سکتے ہيں۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما صدقة التطوع فیجوز صرفها إلی الغنی لأنها تجري مجری الهبة."
(كتاب الزكاة، فصل الذي يرجع الي المؤدي، ج: 2، ص: 48، ط: رشيدية)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصاباً أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضاً للتجارة أو لغير التجارة فاضلاً عن حاجته في جميع السنة، هكذا في الزاهدي، والشرط أن يكون فاضلاً عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان، كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحاً مكتسباً، كذا في الزاهدي. .......ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب، كذا في الهداية. ويجوز الدفع إلى من عداهم من بني هاشم كذرية أبي لهب؛ لأنهم لم يناصروا النبي صلى الله عليه وسلم، كذا في السراج الوهاج. هذا في الواجبات كالزكاة والنذر والعشر والكفارة، فأما التطوع فيجوز الصرف إليهم، كذا في الكافي."
(کتاب الزکاة، باب المصرف، ج: 1، ص: 189، ط: رشیدیة)
فقط والله أعلم
فتوی نمبر : 144608100706
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن