میری ساس جو رشتہ میں میری خالہ لگتی ہیں،انہوں نے اپنی بیٹی (میری سالی)کی شادی شیعہ مسلک کے آدمی سے کی ہے،جس سے 4 بچے ہوئے ہیں،انہوں نے اپنے ایک بیٹے کے لیے میری بیٹی کا رشتہ مانگا ہے۔
آپ شریعت کی روشنی میں وضاحت کردیں:
1۔ایسی شادی کرنا جائز ہے یا نہیں؟
2۔ایسے گھرانے سے متعلق شریعت کا کیا حکم ہےجس میں میاں بیوی الگ الگ فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں۔
1،2۔اگر سائل کی سالی کا بیٹا شیعہ ہے اور وہ کوئی کفریہ عقیدہ رکھتا ہے، مثلًا: قرآنِ کریم میں تحریف (ردوبدل) ہوئی ہے، اہل تشیع کے بارہ امام کےبارے میں اس بات کا قائل ہوکہ ان کی امامت اللہ جل شانہ کی طرف سے ہے اور امام گناہ سے معصوم ہے، ان کو حلال وحرام کا اختیارہے، یا جبرئیل امین سے وحی پہنچانے میں غلطی ہوئی ہے، یا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت کا قائل ہو، یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت یا شیخین رضی اللہ عنہما کی خلافت کا منکر ہے، یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان باندھتاہو تو اس طرح کے عقائد رکھنے والا فرد مسلمان نہیں ہے ، اور کسی سنی لڑکی کا اس سے نکاح جائزنہیں ہے۔ البتہ اگر شیعہ لڑکااپنے باطل کفریہ عقائد سے صدق دل سے توبہ کرکے مکمل براء ت کا اظہار کرے اور صحیح اسلامی عقائد کا دل وجان سے اقرار کرلے تو اس سے نکاح جائز ہوگا۔
لیکن اس کے عقائد کفریہ نہ بھی ہوں تو بھی جمہور اہلِ سنت والجماعت کے خلاف نظریات رکھنے والے شخص سے کسی سنی لڑکی کے نکاح کرنے میں اس کی دین داری متاثر ہونے کا قوی اندیشہ ہے، لہٰذا کسی صحیح العقیدہ مسلمان سے نکاح کرنایا کروانا چاہیے ، نیز نکاح کے سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رشتے کے انتخاب میں دین داری کو ترجیح دینے کا حکم دیا ہے۔
فتاوی شامی میں ہے :
"وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل عليا أو يسب الصحابة الخ."
(کتاب النکاح ، فصل فی المحرمات ج: 3 ص: 46 ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144512100573
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن