ایک لڑکی اپنے گھر سے کچھ پیسے اورزیورات لےکرگئی اورخط میں والدین کی بڑائی لکھ کرگئی،اس کے بعد تقریباًدوسے چاردن میں رابطہ ہوااورلڑکی نے بتایاکہ ہمارا نکاح لڑکے کی کسی بزرگ خاتون نے کرایا ہے،اورلڑکے کے رشتہ دار وں میں شادی کی دعوتیں بھی ہوئیں۔
پھر تقریباًتین مہینے بعد لڑکی کے خالو کاانتقال ہوگیاتولڑکی کے گھر والوں نے انتقال کی خبردی اورپیسے بھیج کرلڑکی کوکراچی بلوایا،اس کے بعد سے نہ لڑکے اورنہ ہی لڑکے کے گھر والوں سے کوئی رابطہ ہوا،اب تقریباًچارسال بعد لڑکی کے گھروالے اس کادوبارہ نکاح کررہے ہیں،(واضح رہے کہ پہلےلڑکے نے طلاق دی ہے یانہیں؟ اس بارے میں معلوم نہیں ،اورجس لڑکے سے نکاح کروارہے ہیں اس کوبھی معلوم نہیں)جب کہ لڑکی کے والد نے کسی عالم سے مشورہ لیاتوانہوں نے کہاکہ پہلانکاح بھول جاؤ۔
اب سوال یہ ہے کہ ہمارااس نکاح میں شرکت کرناجائز ہے یانہیں؟
واضح رہے کہ کسی دوسرے شخص کی منکوحہ عورت سے نکاح کرنا شرعاًنا جائز اور حرام ہے؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاًپہلے شوہرنے مذکورہ لڑکی کونکاح صحیح کے بعد طلاق یاخلع نہیں دی ہےتو پھر مذکورہ لڑکی کاکسی اورسے نکاح کرواناشرعاًفعل حرام ہے،اور جانتے ہوئے ایسے نکاح میں شرکت کرنابھی باعثِ گناہ ہے،جس سے احتراز ضروری ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة."
(كتاب النكاح، القسم السادس المحرمات التي يتعلق بها حق الغير." ج:1، ص:280، ط:دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144601100252
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن