اگر کسی کا یوٹیوب چینل ہے اور وہ اسلامک چینل ہے، لیکن وہ جو کیمرہ استعمال کرتا ہے وہ حرام پیسوں کا ہے ، اس سے بنائی گئی ویڈیو کی کمائی کیا حرام ہوگی ؟جواز کی کیا صورت ہے ؟کیوں کہ وہ کیمرہ مہنگا ہے ۔
یوٹیوب پر چینل بناکر ویڈیو اَپ لوڈ کرنے کی صورت میں اگر اس چینل کے فالوورز زیادہ ہوں تو یوٹیوب چینل ہولڈر کی اجازت سے اس میں اپنے مختلف کسٹمر کے اشتہار چلاتا ہے، اور اس کی ایڈورٹائزمنٹ اور مارکیٹنگ کرنے پر ویڈیو اَپ لوڈ کرنے والے کو بھی پیسے دیتا ہے۔ اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر چینل پر ویڈیو اَپ لوڈ کرنے والا:
1۔ جان د ار کی تصویر والی ویڈیو اپ لوڈ کرے، یا اس ویڈیو میں جان دار کی تصویر ہو۔
2۔ یا اس ویڈیو میں میوزک اور موسیقی ہو۔
3۔ یا اشتہار غیر شرعی ہو ۔
4۔ یا کسی بھی غیر شرعی شے کا اشتہار ہو۔
5۔ یا اس کے لیے کوئی غیر شرعی معاہدہ کرنا پڑتا ہو۔
تو اس کے ذریعے پیسے کمانا جائز نہیں ہے۔
عام طور پر اگر ویڈیو میں مذکورہ خرابیاں نہ بھی ہوں ،جیساکہ سائل نے اسے اسلامک چینل سے تعبیر کیا ہے، تب بھی یوٹیوب کی طرف سے لگائے جانے والے اشتہار میں یہ خرابیاں پائی جاتی ہیں، اور ہماری معلومات کے مطابق یوٹیوب پر چینل بناتے وقت ہی معاہدہ کیا جاتاہے کہ مخصوص مدت میں چینل کے سبسکرائبرز اور ویورز مخصوص تعداد تک پہنچیں گے تو یوٹیوب انتظامیہ اس چینل پر مختلف لوگوں کے اشتہارات چلانے کی مجاز ہوگی، اور چینل بنانے والا اس معاہدے کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوتاہے، الا یہ کہ اشتہارات بند کرنے کے لیے وہ باقاعدہ فیس ادا کرے اور چینل کو کمرشل بنیاد پر استعمال نہ کرے، اور ان اشتہارات کا انتخاب کسی بھی یوزر کی سرچنگ بیس یا لوکیشن یا مختلف لوگوں کے اعتبار سے مختلف ہوسکتاہے، چینل بناتے وقت چوں کہ اس معاہدے پر رضامندی پائی جاتی ہے، لہٰذا یوٹیوب پر چینل بنانا ہی درست نہیں ہے، اور چینل بناتے وقت یوٹیوب انتظامیہ کو جب ایڈ چلانے کی اجازت دی جائے تو اس کے بعد وہ مختلف ڈیوائسز کی سرچنگ بیس یا لوکیشن یا ملکوں کے حساب سے مختلف ایڈ چلاتے ہیں، مثلاً اگر پاکستان میں اسی ویڈیو پر وہ کوئی اشتہار چلاتے ہیں، مغربی ممالک میں اس پر وہ کسی اور قسم کا اشتہار چلاتے ہیں، اور پاکستان میں ہی ایک شخص کی ڈیوائس پر الگ اشتہار چلتاہے تو دوسرے شخص کی ڈیوائس پر دوسری نوعیت کا اشتہار چل سکتاہے، جس میں بسااوقات حرام اور ناجائز چیزوں کی تشہیر بھی کرتے ہیں، ان تمام مفاسد کے پیشِ نظر یوٹیوب پر ویڈیو اپ لوڈ کرکے پیسے کمانے کی شرعًا اجازت نہیں ہے۔
علاوہ ازیں یوٹیوب چینل کے ذریعے اگر آمدن مقصود ہو تو اس سلسلے میں انتظامیہ سے اجارے کا جو معاہدہ کیا جاتاہے وہ بھی شرعی تقاضے پورے نہ ہونے (مثلًا: اجرت کی جہالت) کی وجہ سے جائز نہیں ہوتا۔
یہ تو نفس چینل بنانے اور ا س کی کمائی سے متعلق تفصیل تھی ، جس کے لیے حلال رقم سے کیمرہ خرید کر استعمال کیا جائے تب بھی اجازت نہیں ، باقی اس مقصد کے لیے جب کیمرہ حرام رقم کا استعمال ہورہا ہے تو اس سے اس کی قباحت مزید بڑھ جاتی ہے ۔ اس لیے ایسے چینل کو بند کرکے حلال ذرائع آمدن کو اختیار کرنا چاہیے ۔
فتاوی شامی میں ہے:
"صوت اللهو والغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء النبات. قلت: وفي البزازية استماع صوت الملاهي كضرب قصب ونحوه حرام لقوله - عليه الصلاة والسلام - «استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر» أي بالنعمة فصرف الجوارح إلى غير ما خلق لأجله كفر بالنعمة لا شكر فالواجب كل الواجب أن يجتنب كي لا يسمع لما روي «أنه - عليه الصلاة والسلام - أدخل أصبعه في أذنه عند سماعه."
(كتاب الحظر والإباحة، ج:6 ، ص:349، ط: سعيد)
فتاوی شامی میں ہے:
"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل بتواتره اهـ كلام البحر ملخصا."
(كتاب الصلوة، باب مايفسد الصلوة ومايكره، ج:1، ص:647، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144601100948
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن